رومانیہ کے برٹش ہمسایہ لوگوں کو دعوت اسلام

0
522

مقصد ؛ دعوت و تبلیغ کو مخصوص دائرہ کار سے باہر وسعت دینا ۔

رومانیہ کے لوگ ہمارے وہ یورپی ہمسائے ہیں جن کی خواتین سے بہت سے مسلمان مردوں ، خاص طور پر نئے ہجرت کر کے یورپ و برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے والوں نے شادیاں کی ہیں۔ تاریخی طور پر یہ امر ثابت شدہ ہے کہ رومانی لوگ تقریباً 250 قبل مسیح میں ہندوستان کے علاقے راجستھان سے ہجرت کر کے یورپ آباد ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کی جسمانی ساخت ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں سے بہت مشابہت رکھتی ہے ۔
آئیے ہم سب مل کر ان کے ساتھ دین اسلام کے مہکتے پھولوں کا تحفہ شیئر کریں ۔

صدیوں سے برطانیہ نے دنیا بھر سے آنے والے مختلف النوع لوگوں کو خوش آمدید کہا ہے، اور یہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کا گہوارہ بن چکا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں، بڑی تعداد میں رومانیہ کے لوگوں نے برطانیہ کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا ہے، 2021 کی مردم شماری کے مطابق یہاں 342,000 رومانی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے بیشتر مختلف شہروں کے وسطی حصہ میں رہائش پذیر ہیں، جہاں بہت سارے مسلمان بھی آباد ہیں اس اعتبار سے یہ ہمارے ہمسائے ہیں، چاہے یہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں۔ اسی بات سے متاثر ہو کر میں نے ان کے ساتھ اسلام کا پیغام شئیر کرنے کا ارادہ کیا یے ۔ حال ہی میں، ہم نے گیبریل الرومانی نام کے ایک رومانی مسلمان مبلغ کو ناٹنگھم آنے کی دعوت دی جو پانچ دن ہمارے ساتھ گزارے گا تاکہ وہ رومانی کمیونٹی کے ساتھ ڈائیلاگ کرے اور انہیں اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائے ۔
اس بلاگ میں میں نے دعوت و تبلیغ کے اس تصور کو اجاگر کیا ہے، جسے میں شہادت یعنی گواہی کی ایک شکل سمجھتا ہوں۔

بحیثت مسلمان ہم ایک انتہائی مہربان اور طاقتور خدا پر یقین رکھتے ہیں، اور خود کو اس کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں ایک مقدس مشن سونپا گیا ہے: رضائے الہی کے مطابق زندگی گزارنا، جسے ہم عبادات، اعلی اخلاقی رویوں اور مضبوط کردار کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔ اس طریق سے نہ صرف اس دنیا میں ایک مکمل اور بھرپور زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے بلکہ یہ عمل آخرت میں بھی نجات کا ضامن ہے۔ جب ہم راہ خدا پر سفر کی خوبصورتی کا تجربہ کرتے ہیں تو قدرتی طور پر اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی خواہش ہمارے وجود میں ابھرتی ہے۔ ایک حقیقی مسلمان جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، وہ دوسروں کو ایمان کی طرف بلانے کی نرم و ملائم صدا اپنے وجود میں مسلسل محسوس کرتا رہتا ہے۔ یہی شہادت ہے ۔۔۔۔۔ ایسی گواہی جو اندر سے پھوٹتی ہے ، دل میں گھر کر جاتی ہے اور دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کی پکار بن جاتی ہے – یہ عمل صرف ایک انتخاب نہیں؛ بلکہ ایک عقلی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

دین اسلام میں کوئی جبر نہیں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ دعوت دین محبت اور احترام کے ساتھ دی جانی چاہیے، بغیر کسی زور زبردستی کے۔
قرآن واضح طور پر اس امر پر زور دیتا ہے کہ : “دین میں کوئی جبر نہیں؛ ہدایت اور گمراہی واضح ہو چکی ہیں ” (البقرہ: 256)۔ ہمارا فرض ہے کہ پیغام دین نرمی سے پیش کریں اور دوسروں کے ساتھ باہمی احترام اور عقلیت پسندی کے ساتھ گفتگو و شنید کریں۔ ہمارا مقصد باہمی اعتماد قائم کرنا، غلط فہمیوں کو دور کرنا، اور تمام لوگوں کے درمیان، چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو، ایک متوازن اور قابل اعتماد معاشرہ کے وجود کا احساس پیدا کرنا ہے۔

اسلام کی مؤثر شہادت دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے دین کی حقانیت پر مکمل اعتماد ہو، لیکن یہ اعتماد غرور میں تبدیل نہ ہو بلکہ سچائی پر ایک عاجزانہ فخر ہو۔ یہ شہادت روزمرہ کی باہمی ملاقاتوں کے ذریعے ہو سکتی ہے، جہاں ہم مشترکہ مسائل پر بات کرتے ہیں ، دوسروں کے ساتھ اپنے افکار کا تبادلہ کرتے ہیں اور اپنی اقدار و ثقافت کی تفہیم کرتے ہیں ۔ یہ عمل اہم امور پر مباحثہ کی صورت میں بھی ممکن ہے ، جہاں علماء اور مذہبی رہنما روحانی معاملات پر تفصیلی بات چیت کرتے ہیں۔

شہادت کیا ہے؟

قرآن ہمیں شہادت دینے کے مختلف طریقے سکھاتا ہے:

* دعوت: “اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت و دانائی اور خوبصورت نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور نرمی سے بحث و مباحثہ کرو” (النحل: 125)۔

* تبلیغ: اسلام کی تعلیمات کو پہنچانے کا عمل۔

* تبشیر: دوسروں کو امید اور نجات کی خوشخبری دینا۔

* انذار: نقصان دہ اعمال اور ان کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنا۔

* تذکیر: دوسروں کو اللہ کے ساتھ اپنی روحانی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا۔

یہ سب الہی احکامات ہیں، جو ہم پر شہادت کو مسقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا فرض عائد کرتے ہیں، نہ صرف غیر مسلموں کو دعوت دین بلکہ مسلمانوں کو بھی۔ تاہم، دونوں صورتوں میں طریقہ کار اور مواد کو سامنے والے شخص کی سوچ اور مذہبی وابستگی کے مطابق ڈھالنا چاہیے، اور حریت رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

شہادت میں نبی کریم کا اسوہ حسنہ

نبی کریم ﷺ کی ذات شہادت دینے میں ہمارے لئے سب سے بہترین مثال ہے ۔ سفر طائف میں تبلیغ اسلام کی خاطر آپ کو وہاں کے باسیوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے ان لوگوں سے دعوت و تبلیغ سے کبھی منہ نہیں موڑا اور انھیں بھی مایوس نہیں کیا جنہوں نے آپ کے پیغام کو مسترد کیا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی حالت میں، کبھی بھی اور کسی سے بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے؛ ہم یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ کب کس کا دل ایمان کی طرف مائل ہو جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمدردی و غمگساری کی اعلی مثال قائم کی، یہ جانتے ہوئے کہ بہت سے لوگ اسلام کے پیغام کو لاعلمی یا اجنبیت کی وجہ سے رد کرتے ہیں۔ ایک اچھا گواہ دوسروں کو آرام دہ محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے اور محبت کے ساتھ ان کی رہنمائی کرتا ہے۔

آخر کار، نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ دوسروں کے روحانی و دینی سفر میں مدد کرنے سے الہی مدد حاصل ہوتی ہے: “اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔” جذبہ ایمان میں یہ طاقت ہے کہ اس کی تاثیر دوسروں کو محسوس ہوتی ہے؛ محبت کے انمول جذبہ اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہو کر ہم دوسروں کو اسلام کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

برطانیہ میں اپنے رومانی ہمسایوں کو دعوت اسلام دے کر اور مخصوص گروہی دائروں کو توڑ کر ہم اپنے دین کا ایک اہم حکم پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں — شہادت دینا۔ یوں ہم شاہد و شہید کہلائیں گے ۔ یہ عمل صرف ان تک پیغام دین پہنچانے کا ہی نہیں ہے ، بلکہ ہمزہ وصل بننے کا، عقل و شعور اور فہم و فراست کو عام کرنے اور دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے، ہم اپنے رومانیہ کے ہمسائے بھائیوں بہنوں کو اسلام کی خوبصورتی کا تجربہ کرنے کی دعوت دے کر اس عملی تجربہ کے نتائج کا انتظار کریں گے کہ کس طرح دعوت دین کے لئیے ان تک رسائی پانے اور شاہد بننے سے دل بدل سکتے ہیں۔ ہم اللہ کے دین کے محض قاصد ہیں؛ دلوں کا موڑنے والا اللہ ہی ہے۔
آئیے دعا کریں، اے دلوں کو موڑنے والے، ان بھائیوں بہنوں کے دلوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف موڑ دے۔ آمین۔