خود احتسابی/ ایک مسلمان کی مذہبی زندگی کی مضبوط اساس

0
581

اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ طرزِ حیات ہے جو زندگی کے مقاصد سمجھنے اور ان کے حصول  کے طریقوں پر واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کی ترقی کے لیے ایک جامع نقطہء نظر پیش کرتا ہے جس میں خود کو بہتر بنانا، زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنا اور دنیا کے دیگر افراد کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس مضمون میں، میں آپ کو قرآن کے ایک اقتباس کی بنیاد پر آسان پیرائے میں خود احتسابی کے طریقہ کار کی طرف رہنمائی کروں گا۔

قرآن میں ہے:

“یقیناً مؤمن بندے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں،  لغو باتوں سے بچتے ہیں،  زکاة ادا کرتے ہیں،  اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے… جو اپنی امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور  اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے اصل وارث ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔” (المؤمنون: 1-10)

یہ اقتباس ایک مومن کی زندگی کے اہم عناصر کی طرف نشاندہی کرتا ہے، جو درج ذیل ہیں

نماز پر توجہ دینا

بے مقصد سرگرمیوں سے بچنا

صدقہ و خیرات کرنا

پاکیزہ اور باحیا زندگی گزارنا

وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا

خود احتسابی: میری، میرے خاندان اور میری جماعت کی

عبادت

برطانیہ کی مسلم کمیونٹی عبادات بالخصوص نماز  کے معاملے میں انتہائی باعزم کمیونٹی ہے، جس کا ثبوت دو ہزار سے زیادہ عبادت گاہوں کا قیام ہے، جو چھوٹے چھوٹے گھروں سے لے کر بڑی مساجد تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر، ناٹنگھم میں مسلم آبادی تقریبا  40,000 کے قریب ہے اور یہاں 38 مساجد اور اسلامی مراکز ہیں۔ یہ عمل اور عزم قابل صد تعریف ہے اور اس کی جتنی بھی قدر کی جائے ،کم ہے ۔ میں اس شعبے میں مسلم کمیونٹی کی کارکردگی کو 10 میں سے 8 نمبر دوں گا۔ تقریباً 70% نوجوان مرد جمعہ کی نماز میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں، جو کہ مذہبی زندگی کے اس پہلو میں ان کی مضبوط شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔

بے مقصد سرگرمیوں سے بچنا

ایک مومن کی خاصیت یہ ہے کہ وہ فضول سرگرمیوں اور عصر حاضر کی لغویات  سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھنے میں آیا یے کہ اب بھی بہت سے مسلمان سادہ اور کفایت شعار زندگی گزارتے ہیں، اسراف سے بچتے ہیں اور بےجا قرضوں کے بوجھ سے آزاد ہیں۔ فضول خرچی اور غیر ضروری سرگرمیوں سے دور رہ کر انسان زندگی کا غیر ضروری بوجھ برداشت کرنے سے نہ صرف بچ جاتا ہے بلکہ ان امور پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جو بہت زیادہ  اہمیت کے حامل ہیں۔

صدقہ و خیرات

مسلمان جہاں بھی ہوں اپنی سخاوت کے لیے جانے جاتے ہیں، برطانیہ کا مسلم معاشرہ سالانہ ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرتا ہے ۔ ایک سروے  کے مطابق مسلمان برطانیہ کے سب سے زیادہ فراخ دل  شہریوں میں شامل ہیں۔ یہ مسلم کمیونٹی کی سخاوت اور ہمدردی  کی بہت اعلی مثال  ہے، جو اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ دوسروں کی مدد پر ہمیشہ کمربستہ رہتے ہیں۔

پاکدامنی اور حیا

پاکدامنی اور حیا وہ بنیادی صفات ہیں جو خاندان کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔ تاہم، مسلم کمیونٹی میں شادی، طلاق، اور خاندانی تنازعات کے حوالے سے تشویشناک رجحانات ہیں۔ نوجوان لوگ شادی میں تاخیر کر رہے ہیں، اور طلاق کی شرح اور خاندانی تنازعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مسائل روایتی خاندانی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک چیلنج ہیں، جو ایک مستحکم معاشرے کے لیے بہت اہم ہیں۔

وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری

دیانتداری اور سچائی وعدہ پورا کرنے  اور ایفائے عہد کے لیے ازبس ضروری ہے ۔ یہ صفات ایک منظم معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں اعتماد اور بھروسہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان اقدار کو برقرار رکھنے سے کاروباری اور سماجی تعلقات بغیر کسی رکاوٹ کے چلتے رہتے ہیں، اور اخوت اور باہمی احترام کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

نتیجہ

میں نے  قرآن مجید کے ایک اقتباس کی بنیاد پر مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ اس زندگی کے کلیدی پہلوؤں میں نماز پر توجہ ، بے مقصد سرگرمیوں سے بچنا، صدقہ و خیرات کرنا، پاکیزہ اور باحیا زندگی گزارنا، اور وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری شامل ہیں اور میں نے اپنے مشاہدہ کی روشنی میں بتایا کہ مسلم کمیونٹی ان اصولوں پر کس حد تک عمل کر رہی ہے۔

مسلم کمیونٹی جن معاملات میں اعلی کارکردگی دکھا رہی ہے ، وہ یہ ہیں۔

عبادت:   نماز اور عبادات کے معاملہ میں برطانیہ کے مسلمان اہل عزیمت ہیں اور بہت بڑی  تعداد میں مساجد اور جمعہ کی نمازوں میں  شرکت کرتے ہیں ۔

صدقہ و خیرات: یہاں کے مسلمان اپنی سخاوت کے لیے بھی مشہور ہیں اور چیرٹی کے جملہ منصوبوں کے لئے نمایاں تعاون کرتے ہیں ، یہ عمل  ان کی پاکیزہ  فطرت کی عکاسی کرتا ہے ۔

فکر مند پہلو

خاندانی اقدار: یہاں شادی، طلاق، اور خاندانی تنازعات کے حوالے سے تشویشناک رجحانات ہیں، جو روایتی خاندانی اقدار کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سادہ زندگی: اگرچہ بہت سے مسلمان سادہ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اسراف  اور ماڈرن طرز زندگی کے دباؤ کا بڑھتا ہوا اثر بھی ہر طرف دیکھنے کو ملتا ہے، جس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

اس مضمون میں خود احتسابی کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اللہ تعالی کے اس حکم کو ہم نہ صرف روزمرہ زندگی میں اپنائیں بلکہ خاندان ، برادری اور کمیونٹیز میں بھی اس کے فوائد پہچانے جائیں اور اس کی اہمیت اجاگر کی جائے ۔