اس ہفتے، میں آپ کے ساتھ قرآن کی ایک ایسی آیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو سب سے زیادہ روحانى طور پر طاقتور اور مقدس و محترم سمجھی جاتی ہے : آیت الکرسی۔
یہ آیت اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے انتہائی گہرا اثر رکھتی ہے اور اس کی قدر و قیمت دنیاوی مال و متاع سے کہیں زیادہ ہے۔ آئیے اس کی اہمیت اور ان نو عمیق حقائق پر غور کریں جو اس آیت میں شان الہی کے بارے میں مذکور ہیں۔
آیت الکرسی کی عظمت
رسول کریم ﷺ نے فرمایا، “جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا اور اسے ( جنت میں جانے سے) کوئی چیز روک نہیں سکتی۔” یہ آیت ان مومنوں کی زندگی کے معمولات میں شامل ہے، جو سونے سے پہلے اس کی تلاوت سے اللہ تعالی کی پناہ کے خواستگار ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مزید فرمایا، “آدم تمام بنی نوع انسانیت کے والد ہیں، اور میں عربوں کا سردار ہوں—یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ سلمان فارسیوں کے سردار ہیں، صہیب رومیوں کے اور بلال حبشیوں کے سردار ہیں۔ جمعہ ہفتے کا سب سے بہترین دن ہے، قرآن اللہ کا سب سے بہترین کلام ہے، سورۃ البقرہ قرآن کی سب سے بہترین سورۃ ہے، اور آیت الکرسی سورۃ البقرہ کی سب سے بہترین آیت ہے” [دیلمی]۔
آیت الکرسی اللہ کی وحدانیت، جلال اور فضل و کرم کا واضح اعلان ہے۔ یہ محض چند کلمات نہیں ہیں بلکہ اللہ سے وابستگی کا ایک مضبوط ذریعہ اور اس کی بے مثال قوت و جبروت کی عظیم نشانی ہے۔
آیت الکرسی کے فضائل
آیت الکرسی کے بیشمار فضائل ہیں۔ یہ وہ آیت ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان حفظ کرتے اور باقاعدگی سے پڑھتے ہیں، سفر سے پہلے ، بستر پر جانے سے پہلے ، یا اہم کاموں کی شروعات پر اس کی تلاوت کرنا عام معمولات میں شامل ہے ۔ اس آیت سے ایک مسلمان کے تعلق کی سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ یہ آیت ہمارے گھروں، دکانوں اور مساجد میں خوبصورت خطاطی میں لکھی ہوئی عام ملتی ہے۔
اہم تصورات
* الْحَيُّ: ہمیشہ زندہ، جو کبھی نہیں مرتا۔ یہ نام ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، جو اس بنیادی فکر کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے کامل ہے، مکمل طاقت، علم اور زندگی کے ساتھ۔
* الْقَيُّومُ: تمام مخلوقات کو قائم رکھنے والا اور ان کا محافظ۔ اللہ ہی ہر چیز اور ہر ایک کو زندگی اور وجود عطا کرتا ہے۔
* “اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند”: ہمارے حیطہ امکان سے پرے اور الگ ، اللہ کبھی تھکتا یا سوتا نہیں ۔ وہ ہمیشہ جاگتا اور ہر چیز پر کنٹرول رکھتا ہے۔
* الشَّفَاعَةُ: شفاعت، یعنی نیک لوگ بروز قیامت اللہ سے گنہگاروں کی بخشش کے لیے درخواست کریں گے۔ یہ خصوصیت اللہ نے انبیاء، علماء اور اولیاء کو عطا کی ہے، اور نبی کریم ﷺ کو اس میں سب سے اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ فرشتے بھی انسانیت کے لیے پیہم شفاعت کی دعا کرتے ہیں۔ ہماری ایک دوسرے کے لئے دعائیں بھی شفاعت کی ایک قسم ہے ۔
* “وہ جانتا ہے جو انہوں نے کیا اور جو وہ ابھی کریں گے”: اللہ کا علم کامل و اتم ہے۔ وہ ہر وہ چیز دیکھتا ہے جو ہم کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے خیالات اور ارادوں پر بھی وہ واقفیت رکھتا ہے ۔ یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس کا علم دنیا اور آخرت دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔
* “کوئی اس کے علم کو نہیں پا سکتا”: اللہ کی حکمت ہماری شعور اور فہم سے وراء ہے، ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عظیم۔
* “اس کا عرش زمین اور آسمانوں پر محیط ہے”: عرش اس کی کائنات پر حاکمیت اور طاقت کی علامت ہے۔
* الْعَلِيُّ: سب سے بلند، جو کسی بھی انسانی ادراک سے بالاتر ہے۔
* الْعَظِيمُ: سب سے عظیم، ایسی صفات کے ساتھ جو ہر حد امکان سے اعلی و ارفع ہیں۔
نتیجہ
آیت الکرسی سے ہمیں درس ملتا ہے کہ اللہ تعالی وجود کے اعتبار سے سب سے عظیم ہستی اور مستقل بالذات ہے اور جمیع مخلوقات اس کی محتاج ہیں۔ جب ہم یہ بات سمجھ لیتے ہیں تو ہماری دنیاوی سوچ اور فکر اس کی لامحدود قدرت و طاقت کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے ۔ اس نطریہ کے برعکس کہ ہر چیز خدا ہے ، سچ یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ کوئی بھی اس کے سامنے کھڑا ہونے یا اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ لیکن اپنی حکمت کے مطابق اور اللہ کے اذن سے وہ کچھ لوگوں کو شفاعت کرنے کی اجازت دے گا۔ اللہ کا علم لامحدود ہے اور زمان و مکان کی حدود سے وراء ہے، جبکہ ہماری فکر و عقل محدود ہے، جو صرف اس کی تخلیق کے ایک چھوٹے حصے کو اس کی مرضی کے مطابق منعکس کرتی ہے۔
اس لئے ، آئیے آیت الکرسی کی تلاوت کریں۔